اندور،29؍مارچ (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ ؍سینٹ (ظلم وستم روک تھام)قانون کو لے کر سپریم کورٹ کے حالیہ حکم پر مرکزی کے سماجی انصاف کے وزیر تھاورچند گہلوت نے آج غیر اتفاقی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اس قانون کے سخت دفعات کو نرم کیے جانے کے بعد ایس سی ؍ ایس ٹی طبقے میں ظلم و ستم کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔مرکزی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب اس معاملے میں سیاست کو ہوا دینے کے لئے اعلیٰ عدالت کے متعلقہ حکم کو نظر ثانی درخواست کے ذریعے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گہلوت نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سپریم کورٹ نے ایس سی ؍ ایس ٹی قانون کے کچھ طریقہ کار کو لے کر جو فیصلہ منظورکیا ہے وہ انصاف کے اصولوں کو متاثر کرنے والا ہے۔انہوں نے اعلی عدالت کے فیصلے کے کچھ نکات کا حوالہ دیا اور خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی دفعات نرم کئے جانے سے ایس سی ؍ ایس ٹی طبقہ کو جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کرنے والے لوگوں کے خلاف پولیس کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر ہو گی۔اس کے نتیجے میں اس طبقے کے ظلم و ستم کے واقعات بڑھیں گے، مجرموں کو سزا کے بجائے تحفظ ملے گا، جبکہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔مرکزی وزیر نے کہاکہ میری وزارت نے ایس سی ؍ ایس ٹی قانون معاملے میں ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سنجیدگی سے غور و خوض کے بعد وزارت قانون سے درخواست کی تھی کہ اس معاملے میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہے۔مجھے خوشی ہے کہ روی شنکر پرسادنے یہ درخواست منظور کر لی ہے۔گہلوت نے بتایاکہ نظر ثانی والی درخواست دائر کرنے کے لیے سماجی انصاف اور وزارت قانون اٹارنی جنرل کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ تین چار دن میں معاملے کے نکات طے کرنے کے بعد ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ہم یہ درخواست دائرکرنے کی سمت میں آگے بڑھ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دلت طبقے کی نمائندگی کرنے والے مرکزی وزراء رام داس اٹھولے، رام ولاس پاسوان اور دیگر ممبران پارلیمنٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر مشتمل ان کے سامنے متعلقہ موضوعات اٹھایا تھا۔مودی نے انہیں معاملے میں مناسب اقدامات اٹھانے کا یقین دلایا تھا جس کی نتیجہ نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے حکومت کے فیصلے کے طور پر اب سامنے آ چکا ہے۔مرکزی وزیر نے کہاکہ ملک میں بی جے پی کی قیادت والی حکومتوں نے ہمیشہ قانونی دائرے میں رہ کر سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ہم یہ کام آگے بھی کرتے رہیں گے۔